رُوحانی غِذا
تاریخ : 2012 فروری 6
“۔۔۔ بِلا ناغہ دُعا کیا کرو۔” (افسِیوں 6 : 18)
جب سے ہم نے دُعا کرنا سِیکھا ہے ہم نے کِتنی دُعائیں کی ہیں! ہماری پہلی دُعا ہمارے اپنے لِئے تھی۔ ہم نے مِنّت کی کہ خُدا ہم پر رحم کر کے ہمارے گُناہوں کو مِٹا دے۔ اُس نے ہمارے سُن لی لیکِن گُناہوں کے مُعاف ہونے کے بعد ہم نے اَور بھی دُعائیں کیں۔ ہمیں پاکیزگی کے فضل کے لِئے، آزمائش پر غالِب آنے کے لِئے، نِجات کی تسلّی کے لِئے دُعا کرنی پڑی، خُدا کے وعدوں پر تکیہ کرنے کے لِئے، اِیمان اور دُکھ مُصِیبت میں تسلّی کے لِئے دُعا کرنے کی ضرُورت پڑی۔ ہمیں بھِکاری کی طرح اپنی ہر ضرُورت کے لِئے اپنے آسمانی باپ کے پاس جانا پڑا۔ رُوح کی بہبُودی کے لِئے ہمیں کبھی بھی کہیں اَور سے کُچھ نہ مِلا۔ تمام رُوحانی خُوراک آسمان سے آئی اور اپنی باطنی تازگی کے لِئے جو بھی پانی پِیا اُس زِندہ چٹان یعنی خُداوند مسِیح سے نِکلا۔
ہماری رُوح اپنے بل بُوتے پر کبھی دولتمند نہ ہُوئی، وہ روز بروز خُدا باپ کی فراخدِلی کی محتاج رہی۔ ہماری ضرُورتیں بے شُمار تھیں اِسی لِئے اُس کی برکات بھی لاتعداد ہیں، گونا گوں ضرُورتوں کو اُس نے پُورا کیا، تو کیا اِس کے جواب میں ہمیں زبُور نوِیس کے ہم زبان ہو کر نہِیں کہنا چاہیئے کہ “مَیں خُداوند سے محبّت رکھتا ہُوں کِیُونکہ اُس نے میری فریاد اور مِنّت سُنی ہے” (زبُور 116 : 1)؟ جتنی زیادہ ہماری دُعائیں تھیں اُتنے ہی زیادہ اُن کے جواب تھے۔
اُس نے مُصِیبت کے دِن ہماری سُن لی، ہمیں تَقوِیت بخشی، ہماری مدد کی، یہاں تک کہ اُس وقت بھی جب ہم محبّت پر شک کرنے لگے، یہ باتیں یاد کرتے ہوئے ہمارا دِل شُکرگُزاری سے معمُور ہو جائے۔ “اے میرے جان! خُداوند کو مُبارک کہہ اور اُس کی کِسی نعمت کو فراموش نہ کر” (زبُور 103 : 2)۔
سی۔ ایچ۔ سپرجن
“رُوحانی غِذا” کو روزانہ اپنے اِی۔میل پر موصُول کرنے کے لِئے ذیل میں دِئے گئے باکس میں آپ اپنے اِی۔میل کا اِندراج کریں۔


-